حریت وہ بچہ جو بے معنی روتے جا رہا ہے ۔

0
139

عمومی طور پر میں اپنے دوستوں کی باتوں پر ریمارکس پر توجہ یا ردعمل نہیں دکھاتا ہوں ،لیکن حالیہ دنوں جب ایک دوست نے جب مجھے یہ کہا کہ علیحدگی پسند لیڈران نے جیسے بھنگ پی لی ہے تو میں چونگ گیا اور میں متوجہ ہو گیا کہ آخر اس نے اتنی بڑی بات کیوں اور کیسے کہ دی۔اس کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں جو چوٹی کاٹنے کے واقعیات پیش آئے ،ان کے بارے میں علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے انتظامیہ ہیں، کیونکہ میں سمجھ گیا کہ جب بھی کشمیر میں کوئی مسلہ پیدا ہوتا تھا چاہئے وہ سیاسی ہوتا یا انتطامیہ بحران ہیں، تو علحیدگی پسند فٹ سے اس کا لیبل دہلی پر لگا دیتے اور اس کیلئے نئی دہلی کو الزام لگا دیتے ہیں، اس طرح سے علحیدگی پسند باہری دنیا پر یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں، کہ سب کچھ نئی دہلی کے اشاروں پر ہو رہا ہیں، چناچہ اس طرح کی کاروائی کیلئے بھی نئی دہلی کو زمہ دار پہنچا رہے ہیں اور جنگجوں کی کاروائی پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہیں، کیونکہ یہ حریت کی عادت بنگئی ہیں، کہ ہر ایک ایرے گیرے معاملہ کیلئے نئی دہلی کو ٹارگیٹ کرے، چناچہ یہ بات سمجھ میں آرہی ہیں کہ حریت کانفرنس ہر معاملے پر دلی کو موارد الزام ٹھہرا کر اس بات کی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ خد کو تشدد کا شکار قرقر دیکر دنیا باباور کرے لیکن یہ سچھ ہیں کہ ہر محاز پر نئی دہلی پر الزام ٹھیرانے سے اب حریت لیڈران بھی متاثر ہو رہے ہیں، اور علامی برادری میں بھی اب حریت لیڈران کا کوئی خریدار نہیں رہا ہیں، اور اب ان کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا ہیں، اور نہ ہی کوئی سنجیدگی سے لے رہا ہیں، چناچہ کسی نتیجہ پر پہنچے سے پہلے اب وہ پلیب گیم چلا کر اپنی شبہ بچا رہے ہے، اور عالمی برادری کو بھی یہ باور لرنے میں ناکام ہو گیا کہ وہ اس کو قائل کرے۔ کیونکہ عالمی برادری نے اب حریت سے دوری اختؤیار کر لی ہے اور اب یورپی یونین بھی حریت لیڑران کی طرف اپنی توجہ مرکوز نہیں کر رہیں ہیں، اور یہ حریت کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے، اس کے کئی ایک مثالیں د جا سکتی ہیں، کہ حریت لیڑران نے کئی بار سچائی کو تسلیم نہیں کیا، اس سلسلے میں کئی بار حریت لیڑران کے بیانات کا مشائدہ کر سکتے ہیں، ان میں سال ۲۰۱۱ میں سابق حریت چیرمین عندالغنی بٹ نے اس بات کا اعتراف کر لیا تھا کہ میر واعظ عمر فاروق کے والد کو بھی جنگجوں نے مارا تھا، لیکن اس کے باوجود بھی حریت اتحاد اس کا الزام لگا رہی ہیں کہ انہیں فورسز نے مارا ہیں، چناچی جماعت الحدیث کے سربراہ مولوی شوکت احمد کی ۵ واں برسی پر حریت ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک تیار کردی سازش تھی، جس کے تحت تینوں لیڈران کا قتل کیا گیا،اور انہیں ایک ایک کر کے مارا گیا، جس کا مقصد کشمیری مزاحمتی قیادت کو ختم کرنا تھا،، اس بیان سے صاف ظاہر ہو رہا ہیں کہ علحیدگی پسندوں نے شک کی سوئی نئی دہلی ک طرف موڑ دی ہیں، چناچی پروفیسر بٹ کی جانے سے کئی گئے اعتراف کو بھی حریت نے تسلیم نہیں کیا، تو کیا یہ اس لئے کیا گیا کہ اس وقت کے ڈی، جی، پی کلدیپ کھڈا نے حریت کو ایکسپوز کیا تھا جس میں انہوں نے عمر عبداللہ بانگرو کو میر عواعظ مولوی فاروق کے قتل کے زمہ دار قرار دیا تھا، اور بعد میں اس سے بھی اسی مزار میں دفن کیا گیا، یہ پہلا موقعہ نہیں ہیں کہ ان لوگوں کو بھی شہیدوں کے مزار میں ہی جگہ ملی، جنہوں نے اپنے ہی لیڈران کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے تھے، کارئیں کو یاد ہوگا کہ مولوی شوکت احمد کے سال ۲۰۱۱ میں قتل کیا گیا، اور اس سے بھی اسی طرح پر پر اسرار طور پر ٹھکاے لگا دیا گیا، اور اس میں لشکر نے کئی نامور وں کا زکر کر کے کہا تھا کہ یہ ان کا کام ہیں، چناچہ اس کے بعد جب یہ جبگجوں مارے گئے تو اس وقت بھی انہیں شہید کیہ دیا گیا، اور اس وقت مولانا کی ماں نے یہی سوال کیا تھا کہ کس طرح سے مولوان کے قاتل شہید کہلایے جا سکتے ہیں، انہوں نے حریت قائد سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ قاتلوں اور مجاہدوں میں فرق ضرور کرے لیکن یہ بد قسمتی ہیں کہ ہمارے لیڈران ان کی اس سنجیدہ پیغام کی طرف توجہ نہیں دیتے اور اسی طرح سال ۲۰۱۵ میں سوپور میں جب موبائل ٹاوروں پر حملہ کئے گئے تو اس وقت بھی حزب المجاہدینکے کمانڈر قیوم نجار کے بارے میں بتایا گیاکہ وہ ان حملوں کے پیچھے ہیں، لیکن اس وقت بھی گیلانی صاحب نے یہ کہا کہ بھارتی ایجنسی کی کارستانی ہیں جس کا مقصد مجاہدین میں انتشہارپھیلانا ہیں اور انہیں بد ظن کر دیان ہیں، چناچہ ایک وقت پھر حریت کو خفت اُٹھانی پڑی جس پر ان حملوں کے بعد سرحد پار حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے نجار کو اپنی تنظیم سے بے دخل کر دیا، اس کہانی کا سوال یہ ہے کہ حریت کا کہنا ہیں کہ بین القوامی برادری کشمیر مسلہ کی جانب توجہ اس لئے نہیں دے رہے ہے کیونکہ اس میں اس کے سیاسی اور کمرشل مفادات ہیں ، بلکل اسی طرح جب ایک بچہ روتا ہیں اور اس کے رونے کا کوئی کارن ہی نہیں ہوتا اس طرح سے حریت لیڈران بھی ان دیکھنے ایسے الزامات بھی دہلی کے سر تھومپے ہیں۔ جن کا دہلی کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، اس کا نقصان یہ ہوا کہ ان بین القوامی برادری حریت کا سننا بھی گوارا نہیں کرتی ہیں، کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ وہ ہر معاملہ پر دہلی پر ہی سارے الزام ٹھہرا رہے ہے چاہئے وہ اس کا نادرونی مسلہ ہو یا بیرونی، لہٰذا اب یہ اچھا ہو گیا کہ اگر حریت لیڈران تول تول کر بیانات جاری کرتے اور وہ جو الزام تراشی کرتے ہیں تو اس میں انہیں پورا پورا یقین اور سو فیصد ثبوت بھی ہاتھ میں ہانا چاہئے، لیکن فی الوقت وہ بین القوامی برادری کے سامنے اپنی اعتابریت کھو رہی ہیں اور یہ ہماری تحریک خداریت کیلئے انتہائی سطح تک نقصان دہ ہیں۔

LEAVE A REPLY